محمد سمیع اللہ
لاہور
معروف امریکی محقق اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں مذہب اور بین الاقوامی امور کے پروفیسر، جان لوئس ایسپوزیٹو کا آج انتقال ہو گیا ہے۔ ان کی شخصیت اور فکر سے میرا باقاعدہ تعارف ٢٠٠٥ کے اواخر میں اس وقت ہوا جب میں نے اپنے پی ایچ ڈی کے سفر کا آغاز کیا۔ میرے مقالے کا موضوع "انقلاب پسند مسلم تحریکات سے متعلق مغربی رحجانات” تھا۔ اس تحقیق کے دوران مغربی اکیڈمیا میں پائے جانے والے متضاد رویوں کا تجزیہ کرتے ہوئے، میں نے برنارڈ لیوس کے تصادم اور استشراقی تعصب پر مبنی نظریات کے ساتھ، جان لوئس ایسپوزیٹو کی معتدل، ہمدردانہ اور حقیقت پسندانہ فکر کو بطور ‘کیس اسٹڈی’ منتخب کیا۔ یہ تقابلی جائزہ میرے لیے ان کی فکری دیانت کو سمجھنے کا باعث بنا۔ یہ علمی رشتہ محض ان کی کتابوں کے مطالعے تک محدود نہ رہا، بلکہ خوش قسمتی سے ٢٠٠٧ سے لے کر ٢٠١٧ تک مجھے ان کے ساتھ براہِ راست بذریعہ ای میل تبادلہ خیال کا شرف بھی حاصل رہا۔ اس ایک دہائی پر محیط خط و کتابت نے نہ صرف میرے تحقیقی زاویوں کو وسعت دی، بلکہ میں نے محسوس کیا کہ وہ ہمیشہ ایک شفیق استاد اور مخلص راہنما کی طرح اپنے جونیئر محققین کی رہنمائی کے لیے وقت نکالتے تھے۔
ایسپوزیٹو کی رحلت بین المذاہب مکالمے اور علمی دیانت داری کے روشن باب کا خاتمہ ہے۔ ‘مرکز برائے مسلم-مسیحی افہام و تفہیم’ کے بانی کے طور پر، انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام اور مغرب کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو پاٹنے میں صرف کی۔ مسلم تاریخ، تہذیب اور بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ سیاسی اور سماجی مسائل پر ان کی علمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ایسے دور میں جب مغربی میڈیا اور اکیڈمیا میں ‘تہذیبوں کے تصادم’ کے نظریات پروان چڑھ رہے تھے، ایسپوزیٹو نے غیر معمولی جرات کے ساتھ مسلم دنیا کا حقیقی بیانیہ پیش کیا اور مغرب کو سیاسی شدت پسندی اور عام مسلمانوں کے پرامن اور روایتی طرزِ زندگی کے درمیان فرق کرنا سکھایا۔
ان کی فکر، ان کی شہرہ آفاق تصانیف میں محفوظ ہے، جنہوں نے روایتی استشراقی تعصبات کے برعکس تفہیم کے نئے دریچے کھولے۔ ١٩٨٤ میں شائع ہونے والی ان کی کتاب "اسلام اور سیاست” (Islam and Politics) نے جدید مسلم دنیا میں مذہب اور سیاست کے گہرے تعلق اور ابھرنے والی تحریکات کا شاندار تاریخی جائزہ پیش کیا۔ اسی طرح ١٩٨٨ میں منظرِ عام پر آنے والی "اسلام: سیدھا راستہ” (Islam: The Straight Path) مغربی جامعات میں اسلام کے تعارف پر سب سے زیادہ پڑھائی جانے والی متوازن درسی کتب میں شمار ہوتی ہے۔ ١٩٩٢ میں انہوں نے "اسلامی خطرہ: خرافات یا حقیقت؟” (The Islamic Threat: Myth or Reality?) کے ذریعے مغربی ذہن پر واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کی جڑیں بنیادی طور پر سیاسی اور استحصالی محرکات میں پیوست ہیں۔ ١٩٩٩ میں ان کی ادارت میں مرتب ہونے والی ضخیم "آکسفورڈ ہسٹری آف اسلام” مسلم تہذیب کی عظمت اور تنوع کو شاندار طریقے سے اجاگر کرنے والا ایک اور علمی شاہکار ہے۔
نائن الیون کے بعد جب مغرب میں شکوک و شبہات کی فضا قائم ہوئی تو انہوں نے ٢٠٠٢ میں "ناپاک جنگ: دہشت گردی بمقابلہ جہاد” (Unholy War) اور "اسلام کے بارے میں وہ سب کچھ جو ہر ایک کو جاننا چاہیے” (What Everyone Needs to Know About Islam) جیسی کتب لکھ کر جہاد کے حقیقی تصور اور خواتین و اقلیتوں کے حقوق سے متعلق عام غلط فہمیوں کو دور کیا۔ بعد ازاں، ٢٠٠٧ میں دالیہ مجاہد کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب "اسلام کا ترجمان کون؟” (Who Speaks for Islam?) نے گیلپ پول کے وسیع عالمی اعداد و شمار سے ٹھوس شواہد کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ مسلم دنیا کی بھاری اکثریت شدت پسندی کو مسترد کرتی ہے اور قانون کی حکمرانی کی خواہاں ہے۔
آج ان کی وفات کی خبر علمی حلقوں کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔ مشرق و مغرب کو جوڑنے اور مسلم دنیا کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے انہوں نے جو پل تعمیر کیا، اس کی بنیادیں ان کی فکری دیانت کی بدولت بہت مضبوط ہیں۔ ان کا خلا شاید ہی کبھی پر ہو سکے، لیکن ان کا چھوڑا ہوا یہ شاندار علمی ورثہ ہمیشہ محققین کی رہنمائی کرتا رہے گا اور تاریخ میں ان کا نام بین المذاہب رواداری اور حق گوئی کے استعارے کے طور پر ہمیشہ احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔