امریکی ‘لبرٹی’ (Liberty) اور فرانسیسی ‘لیبرٹے’ (Liberté) : ایک بنیادی اختلاف

جوزف نصر

0

جوزف نصر

ترجمہ:    فداءالرحمن

 

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انقلابِ فرانس اور قیامِ امریکہ کی داستان بڑی حد تک باہمی تعامل اور اثر پذیری کی عکاس ہے۔ پبلیئس  کی مونٹیسکیو کے تئیں عقیدت سے لے کر، (Declaration of the Rights of Man and of the Citizen) کی تدوین میں تھامس جیفرسن کی شمولیت تک، دونوں جمہوری ریاستوں نے اپنی ابتدا ہی سے یکساں نظریات کی ترویج کی ہے اور ان کی جڑیں ایک ہی فلسفیانہ سرچشموں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ تاہم، امریکی اور فرانسیسی تعلقات آغاز ہی سے ایک ‘سوئے تفہیم’ (malentendu) کی زد میں رہے ہیں؛ ایک ایسا بنیادی اختلاف جس کا منبع محض سیاسی معاملات پر ہونے والے اتفاقی اختلافات سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔

اس سوئے تفہیم  کا تعلق اس مرکزی نصب العین سے ہے جس سے امریکی اور فرانسیسی جمہوریہ بالترتیب اپنا جواز حاصل کرتی ہیں: یعنی ‘لبرٹی’ (Liberty) اور ‘لیبرٹے’ (Liberté)۔

جب سے پیرس کے عوام نے تختِ شاہی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا، انقلابِ فرانس کے متعلق ابتدائی امریکی تصورات دو ایسی تاریخی جہتوں کے زیرِ اثر رہے ہیں جو وقت اور حالات کے مطابق عوامی شعور اور سیاسی قیادت کے ہاں کم یا زیادہ اہمیت پاتی رہی ہیں۔ پہلی جہت یہ تھی کہ سمندر پار ابھرنے والی یہ سیاسی ہیئت (Polity) روح اور نصب العین کے اعتبار سے ایک حلیف اور دوست ریاست تھی۔ دوسری جہت یہ کہ اس نصب العین کے حصول کے لیے اختیار کیے گئے طریقے بظاہر اس قدر ہیبت ناک  تھے کہ وہ صرف ناقابلِ مصالحت اختلافات کا ہی پیش خیمہ ہو سکتے تھے۔ چنانچہ 1794 میں الیگزینڈر ہیملٹن نے مشاہدہ کیا:

انقلابِ فرانس کے ابتدائی ادوار میں، اس کی کامیابی کے لیے ایک پرجوش ولولہ اس ملک (امریکہ) میں ایک حقیقی آفاقی جذبے کی صورت موجود تھا۔ … لیکن اس متفقہ ستائش میں ایک طویل عرصے سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ … تاہم، [امریکی عوام کی] اس جذبے کو ترک کرنے میں ہچکچاہٹ اسی تڑپ اور چاہت کے متناسب رہی ہے جس کے ساتھ انہوں نے اسے (ابتدا میں) گلے لگایا تھا۔

اس بے چینی (Malaise) کا مشہور اظہار جان ایڈمز نے بینجمن رش کے نام اپنے ایک خط میں کیا تھا:  ’کیا میں اپنی زندگی کے تمام ایام فتنہ و فساد برپا کرنے میں مصروف نہیں رہا؟ … کیا انقلابِ امریکہ ہی انقلابِ فرانس کا موجب نہیں بنا؟ اور کیا اس کے بعد سے انقلابِ فرانس نے نسلِ انسانی اور پوری کرہ ارض کے لیے تمام تر آفات اور تباہی و بربادی کو جنم نہیں دیا؟‘

کچھ دہائیاں قبل، تھامس جیفرسن نے اپنے سیکرٹری کے سامنے ایک ایسے نقطہ نظر کا اظہار کیا تھا جو اس معمے (Puzzle) کی وضاحت کرتا ہے جو انقلابِ فرانس نے اس عہد کے امریکی مبصر کے لیے پیدا کر دیا تھا:

اس جدوجہد میں، جو کہ ناگزیر تھی، بہت سے گناہگار افراد باقاعدہ عدالتی کارروائی (trial) کے بغیر ہی مارے گئے، اور ان کے ساتھ کچھ بے گناہ بھی کام آئے۔ … لیکن میں ان کا سوگ بالکل اسی طرح مناتا ہوں جیسے میں ان لوگوں کا غم کرتا جو میدانِ جنگ میں گرے ہوتے۔ … پوری دنیا کی آزادی کا دارومدار اس معرکے کے نتیجے پر تھا، اور کیا کبھی اتنا بڑا انعام اتنے کم بے گناہ خون کی قیمت پر حاصل ہوا ہے؟

پھر انقلابِ فرانس کے واقعات کو سمجھنے میں اس ابہام (Ambiguity) اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی کی وضاحت کیسے کی جا سکتی ہے؟ اس کی شروعات ‘مساوات اور آزادی’ (Equality and Liberty) کے درمیان پائے جانے والے اس تناؤ سے کی جا سکتی ہے جس کا گہرائی سے مطالعہ کیا جا چکا ہے۔ عموماً یہ مانا جاتا ہے کہ انقلابِ فرانس نے مساوات پر زیادہ زور دیا، جبکہ انقلابِ امریکہ نے آزادی کو مقدم رکھا۔ تاہم، دونوں جمہوری ریاستوں کی تاسیسی دستاویزات ‘وجودیتی مساوات ‘(Ontological Equality) اور ‘فطری آزادی’ (Natural Liberty) کو آنے والی جمہوریتوں کے جڑواں ستون قرار دیتی ہیں۔1789ء  کا  ‘اعلانِ حقوقِ انسانی و شہریت’ (Declaration of the Rights of Man and of the Citizen) تمام انسانوں کے ‘آزاد پیدا ہونے اور حقوق میں برابر’ ہونے کا اعلان کرتا ہے، جبکہ ‘اعلانِ آزادی’ (Declaration of Independence) ان ‘بدیہی سچائیوں’ کو تسلیم کرتا ہے کہ ‘تمام انسان برابر پیدا کیے گئے ہیں، اور ان کے خالق نے انہیں… زندگی، آزادی اور حصولِ خوشی جیسے (غیر متبدل) حقوق عطا کیے ہیں’۔ اور اگرچہ فرانسیسی اعلامیے میں بعد ازاں کئی مساوات پسندانہ (egalitarian) دفعات شامل کی گئی ہیں، لیکن 1789ء کے اصولوں میں ‘آزادی’ (Liberty) ہی وہ اصول ہے جس پر اب تک سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔

مزید برآں، جیسا کہ ریٹ آر۔ لڈویکوسکی (Rett R. Ludwikowski) نے 1990 میں ‘The American Journal of Comparative Law میں درست طور پر نشاندہی کی ہے کہ مساوات، آزادی کے برعکس، نسلِ انسانی کی جبلت سے ماخوذ ‘مقدس حقوق’ کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ اسی طرح وینڈل جے براؤن واضح کرتے ہیں کہ ‘اعلانِ آزادی’ میں مذکور مساوات کا تصور آزادی سے اپنا مفہوم اخذ کرتا ہے نہ کہ اس کے برعکس؛ کیونکہ اس کی بنیاد اس مفروضے پر نہیں ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے برابر ہیں، بلکہ اس کی بنیاد ان کی ‘وجودیاتی قدر’ (Ontological Worth)  پر ہے، جو انہیں خود ارادیت کا مساوی حق دیتی ہے۔ یہی تصور ان تین بنیادی اصولوں کی اساس ہے: یعنی زندگی کا تحفہ اور حق، منصفانہ قوانین کے تحت مواقع کی برابری، اور حکومت کے جواز کے منبع کے طور پر ‘عوام کی رضا   ‘ (Consent of the Governed)۔ مختصراً یہ کہ، انسان اپنی آزادی کی نسبت سے برابر ہیں، نہ کہ اپنی مساوات کی نسبت سے آزاد۔

دوسری طرف، اگرچہ دونوں جمہوری ریاستیں ‘فطری حق’ کے طور پر مساوات پر آزادی کی فوقیت کو تسلیم کرتی ہیں، لیکن اس تسلیم و رضا سے اخذ ہونے والے عملی نتائج—یعنی آزادی کے سیاسی نظریے—میں وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ امریکی تصور کے مقابلے میں فرانسیسی تصورِ آزادی کی انفرادیت کو اس کے قطعی طور پر ‘روسویائی’ (Rousseauian) کردار سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔

ریچرڈ شوٹکی کے مطابق، اپنی تحریر ‘La Liberté d’après Rousseau  (1964) میں وہ بیان کرتے ہیں کہ روسو سیاسی معاملات کی تعریف اخلاقیات کے ‘کلی’ (Total) مسئلے کے محض ایک پہلو کے طور پر کرتا ہے۔ اس کا سیاسی نظریہ ریاست کو اخلاقیات سے، اور عقل (Reason) کو ارادے (Will) سے ہم آہنگ کر دیتا ہے، اور بالآخر ‘قانونیت اور اخلاقیت’ کے درمیان فرق کو ختم کر دیتا ہے۔ سیاسی اداروں پر مبنی ہر استدلال کی طرح، روسو کے نظریے کا آغاز بھی ایک بشریاتی مفروضے (Anthropological Premise) سے ہوتا ہے: یعنی ‘بدی’ یا ‘برائی’ انسانی فطرت کا لازمی حصہ نہیں ہے؛ بلکہ یہ اس بیگانگی (Alienation) کا نتیجہ ہے جو انسان نے خود اپنے اوپر مسلط کی ہے۔ "چنانچہ، یہ (بدی) کوئی بنیادی ضرورت نہیں بلکہ ایک مصنوعی بگاڑ (Perversion) ہے جسے سیاسی اداروں کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں، انسان اخلاقی طور پر ‘قابلِ تکمیل’ (Perfectible) ہے، اور سیاسی اداروں کا مقصدِ وجود (Raison d’être) یہی ہے کہ وہ اخلاقی تربیت کے ذریعے اس تکمیل کو ممکن بنائیں، جو کہ انفرادی خود مختاری کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔

چنانچہ، حقیقی آزادی کی بنیاد ‘سیاسی اخلاقیات’ کی نشوونما ہے، جسے ریاست ہی بروئے کار لاتی ہے: سیاسی زندگی میں شرکت کے ذریعے ہی انسان ‘حقیقی معنوں’ میں آزاد ہوتا ہے، کیونکہ صرف اور صرف ریاست کے اندر اور اس کے ذریعے ہی انسان ایک اخلاقی وجود بن پاتا ہے۔ ریاست سے باہر، انسان کی آزادی کی حیثیت محض ایک ‘بے وقوف اور ضدی جانور’ جیسی ہے۔

اس سیاسی و اخلاقی نظم اور انفرادی خود مختاری کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے روسو نے جو حل پیش کیا وہ کافی حد تک انقلابی (radical) ہے:  اپنی تصنیف ‘معاہدہ عمرانی’ (The Social Contract, 1762) میں روسو فرد کو کمیونٹی کے ساتھ، اور ذاتی ارادے کو ‘عوامی ارادے’ (General Will) کے ساتھ ہم آہنگ کر دیتا ہے۔ اسی کی اصطلاحات کو استعمال کرتے ہوئے، ‘اعلانِ حقوقِ انسانی’ یہ اعلان کرتا ہے کہ ‘قانون عوامی ارادے کا اظہار ہے’۔ محض انفرادی خواہشات کے مجموعے کے بجائے، روسو ‘عوامی ارادے’ کو انفرادی ارادوں کا ایک ایسا ‘امتزاج’ (synthesis) سمجھتا ہے جو ایک وسیع تر ‘عضویاتی وحدت’ (body) کے حصے کے طور پر، شہر کی سیاسی زندگی میں ہر شہری کی شرکت کا نامیاتی اظہار ہے۔ عوامی ارادے کی منزل ‘خیرِ مشترک'(Common Good) ہے، جو روسو کے نزدیک ‘مشترکہ اخلاقیات’ کے مترادف ہے۔ درحقیقت، چونکہ انسان فطرتاً نیک ہے اور سیاسی زندگی میں شرکت اسے دوبارہ ویسا ہی بنا دیتی ہے، اس لیے فرد کا وہ ‘حقیقی’ ارادہ جو عوامی ارادے میں ظاہر ہوتا ہے، لازمی طور پر فطرتاً اخلاقی ہوتا ہے۔ چنانچہ، جو کچھ بھی عوامی ارادے کے خلاف جاتا ہے، وہ اپنی ساخت کے اعتبار سے کبھی بھی کسی فرد کا ‘حقیقی’ ارادہ نہیں ہو سکتا، بلکہ وہ محض ان خود غرضانہ مفادات کا عکس ہوتا ہے جو زیادہ سے زیادہ اس بگاڑ (perversion) کے باقیات ہیں جسے ختم کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ، ‘قانون کی اطاعت کرتے ہوئے، [شہری] درحقیقت صرف اپنی ہی اطاعت کرتے ہیں،’ اور اسی لیے وہ آزاد ہیں۔ روسو کی آزادی سے متعلق یہ تعریف کہ یہ ‘خود تجویز کردہ قانون کی پابندی’    کا نام ہے، اسی تناظر میں سمجھی جانی چاہیے؛ جہاں ‘خود’ (self) سے مراد فرد کی وہ سیاسی تکمیل ہے جو ‘عوامی ارادے’ (general will) کی صورت میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔

اوٹو ووسلر (Otto Vossler) اپنی کتاب   ‘Der Nationalgedanke von Rousseau bis Ranke (1937) میں روسو کی فکر کے لیے وقف کردہ ایک باب میں بیان کرتے ہیں کہ:  ‘عوامی ارادے’ (general will) کے ذریعے ‘حاکم اور محکوم’ (sovereign and subject) کے درمیان پائے جانے والے تصوراتی فرق کے اس ‘انقلابی’ خاتمے نے ریاست کی حیثیت کو محض ایک ‘خارجی تجسم’ (external materialization) تک محدود کر دیا ہے۔ یہ ریاست دراصل فرد کی اپنی اس خواہش کا اظہار ہے کہ وہ ایک اخلاقی وجود بن جائے اور اس طرح خود کو آزاد (liberate) کر لے۔اس کا فوری نتیجہ ‘قانونی جبر  ‘(legal constraint) کا وہ جواز ہے جو ریاست کے لیے اپنے اخلاقی مقصد کی تکمیل کے لیے ایک لازمی ذریعے کے طور پر ابھرتا ہے۔ چنانچہ جبر اور سزا اس وقت تک جائز قرار پاتے ہیں جب تک وہ بد اخلاقی کی اس ناگزیر سرکوبی کا کام انجام دیں جو ‘عوامی ارادے’ کے مظہر کے طور پر ریاست کے تحفظ کے لیے ضروری ہو۔

چنانچہ، روسو کے نزدیک اس دعوے میں کوئی تضاد نہیں کہ ‘جو کوئی بھی عوامی ارادے کی اطاعت سے انکار کرے گا اسے… آزاد ہونے پر مجبور (forced to be free) کیا جائے گا’۔ وہ آزادی کے ایک ایسے تصور کی حمایت کرتا ہے جو اپنی کاملیت میں بنیادی طور پر ایک ‘سیاسی پیداوار’ (political product) ہے۔ اسی تصور کی بازگشت روبسپیر (Robespierre) کے اس بیان میں ملتی ہے جس میں وہ انقلابی حکومت کو ظلم و استبداد کے خلاف ‘آزادی کی آمریت’ (despotism of freedom) قرار دیتا ہے۔ فرانسیسی-روسویائی   فکر (paradigm) میں آزادی کا پیمانہ یہ نہیں ہے کہ ایک فرد (particular) میں اجتماعیت (general) کے خلاف مزاحمت کی کتنی سکت ہے، بلکہ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ایک فرد کس حد تک اجتماعیت میں ضم ہو کر اپنی تکمیل کرتا ہے۔ روسو کی فکر میں اس حرکیات (dynamic) کی تفہیم کو بسا اوقات محض ایک عملی تدبیر کے طور پر ‘اکثریت کے ارادے’ کے مطالعے تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ روبسپیر (Robespierre) ایک بار پھر کہتا ہے: ‘جب تک اکثریت قانون کے تحفظ کا تقاضا کرتی ہے، ہر وہ فرد جو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ایک باغی ہے، خواہ وہ قانون دانشمندانہ ہو یا لغو، منصفانہ ہو یا غیر منصفانہ؛ اس (شہری) کا فرض ہے کہ وہ اس کے ساتھ وفادار رہے۔’

اس کے برعکس، فطری آزادی کے اس قدیم یا کلاسیکی فہم (classical understanding) میں جس نے امریکی بنیادوں کو جلا بخشی، انسان ‘مکمل طور پر’ آزاد پیدا ہوتا ہے اور وہ فطرتاً نیکی اور بدی دونوں کی طرف راغب ہوتا ہے، بشمول دوسروں کی آزادی پر غاصبانہ قبضے (encroach) کی ترغیب کے۔ چونکہ اس قسم کی ترغیب کے آگے ہتھیار ڈالنے کا یہ میلان انسانی جبلت اور ساخت (constitution) کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی سماجی طور پر پیدا کردہ بگاڑ کا، اس لیے یہ ایسی چیز نہیں ہے جس کی اصلاح (remedy) کی جا سکے۔جیسا کہ ہربرٹ ہوور نے اپنی کتاب ‘The Challenge to Liberty‘ (1934) میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے (جس کا حوالہ براؤن نے بھی دیا ہے)، دوسری کانٹی نینٹل کانگریس کے مندوبین نے اپنے اقدامات کی بنیاد انسانی فطرت کے ان عناصر کے ایک ‘مشترکہ تخمینے’ پر رکھی تھی جنہیں وہ اس کی ساخت کا لازمی جزو سمجھتے تھے:

ایسی بری جبلتیں اور ہیجانات جیسے کہ کاہلی، حسد، نفرت، کینہ، خوف، حد سے بڑھی ہوئی جنگجوئی اور تباہی کا ارادہ؛ نیز خود غرضانہ جبلتیں اور بقائے نفس کی جبلت، اور مال و دولت کی ہوس۔ تجسس، رقابت، بلند نظری (ambition)، خود اظہاری کی خواہش، خوشامد پسندی اور اقتدار کی طلب… (اور ان کے ساتھ ساتھ) بہادری، محبت، خاندان اور ملک سے وفاداری، ترس، مہربانی اور سخاوت جیسی ایثار پسندانہ جبلتیں؛ آزادی اور انصاف کی محبت؛ کام کرنے اور معاہدہ کرنے کی خواہش، تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کی تڑپ؛ معاشرے اور قوم کی خدمت کا جذبہ؛ اور ان سب کے ساتھ ساتھ امید، ایمان، اور روحانی معاملات کے لیے پائے جانے والے وجدانی میلان۔

یہ مقدمہ (premise) سیاسی نظریے کے ایک ایسے نقطہ نظر کی بنیاد فراہم کرتا ہے جو ‘ماقبلِ تجربہ قیاس آرائی’ (a priori speculation) کے بجائے ‘قابلِ مشاہدہ حقائق’ پر استوار ہے، اور منطقی طور پر اس نتیجے کی طرف لے جاتا ہے کہ کوئی بھی پائیدار سیاسی نظام وہی ہو سکتا ہے جو انسان کی ناقص فطرت (flawed nature) کو اپنی بنیادوں میں شامل کرے، نہ کہ اسے مکمل یا مثالی بنانے کی کوشش کرے۔ یہی وہ اندازِ فکر تھا جس میں جیفرسن اور ایڈمز، اپنے نفاذ کے طریقوں اور مخصوص اختلافات کے باوجود، باہم شریک تھے اور اسی کو انہوں نے امریکی نظامِ حکومت کی فلسفیانہ اساس وضع کرنے میں بروئے کار لایا۔ روسو کے  Discourse on Inequality  (1755) پر اپنے حواشی (notes) میں، ایڈمز نے روسو کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ:

فطرت کی (فرضی) حالت (State of Nature) سے اخذ کیے گئے استدلال مغالطہ آمیز ہیں، کیونکہ وہ محض مفروضوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے حقائق موجود نہیں ہیں۔ تجربات کی کمی ہے۔ وحشیانہ زندگی (Savage Life) سے اخذ کیے گئے استدلال بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں ہیں۔ ہر مصنف وہی دعویٰ کر دیتا ہے جو اسے پسند ہو۔ ہمارے پاس ایسے حقائق نہیں ہیں جن پر بھروسہ کیا جا سکے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایڈمز نے انہی حواشی میں اس ‘حقائق پر مبنی نقطہ نظر’ کا دفاع جزوی طور پر اس لیے بھی کیا تاکہ وہ سیاسی نظریے میں ‘عیسائی مذہب کی حرمت’ (Reverence to the Christian religion) کے اس زوال کی مخالفت کر سکیں جو ‘فطری حالت’، ‘وحشیانہ زندگی’ اور ان تصورات کے استعمال سے پیدا ہوا تھا جنہیں وہ ‘چینی خوشی’ (Chinese happiness) کا نام دیتے ہیں۔ اسی طرح، تھامس جیفرسن نے 1774ء میں اپنی تحریر ‘برطانوی امریکہ کے حقوق کا اجمالی جائزہ’ (Summary View of the Rights of British America) میں آزادی کے الہیٰ ماخذ کی توثیق کرنا مناسب سمجھا، اور یہ اعلان کیا کہ ‘جس خدا نے ہمیں زندگی بخشی، اسی نے ہمیں ساتھ ہی آزادی بھی عطا کی’۔ یہ بیان ‘اعلانِ آزادی’ کے دوسرے پیراگراف کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

انسانی فطرت کی قابلِ مشاہدہ خصوصیات اور ‘احکامِ الٰہی’ (decrees of heaven) کے تناظر میں ہی ریاست کو انفرادی آزادی کے ‘محافظ’ (protector) کا کردار ادا کرنا ہے؛ وہ آزادی جو ریاست سے بالاتر (بالا تر ماخذ سے) آتی ہے اور اس پر فوقیت رکھتی ہے۔ آزادی کے حوالے سے ریاست کا منصب زیادہ سے زیادہ ایک ‘نگہبان’ (guardian) کا ہے نہ کہ ‘محرک’ (catalyst) کا۔ چنانچہ، ریاست کی مداخلت اور کارروائی کو وہاں تھم جانا چاہیے جہاں سے فرد کے خصوصی اختیارات (prerogatives) کا آغاز ہوتا ہے۔

مختصر یہ کہ اخلاقیات اور سیاست، باہمی اثر پذیری (permeability) کے کچھ درجے کے باوجود، ایک دوسرے کے مماثل نہیں ہیں، اور اخلاقیات کو سیاست پر برتری حاصل ہے۔ ریاست جتنا زیادہ اپنا اثر و رسوخ بڑھاتی ہے، انفرادیت (individuality) کے پاس اپنی آزادی کے اظہار کے لیے درکار جگہ اتنی ہی کم ہوتی جاتی ہے۔ امریکی انقلابیوں کے نزدیک، آزادی دراصل سیاسی اقتدار کی ‘آخری حد’ (limit) کا نام تھی، اور آزادی کی فطری کاملیت کو اس بات کی قطعی ضرورت نہ تھی کہ اسے سیاسی مداخلت کے ذریعے عملی جامہ پہنایا جائے۔

یہ تصور اپنے عملی مضمرات میں سب سے زیادہ واضح ہو کر سامنے آتا ہے، خاص طور پر جب مفادات کے تنوع (diversity of interests) کے مسئلے سے نمٹنے کی بات آتی ہے۔ مثال کے طور پر، گروہ بندی (factions) پر مبنی میڈیسن کا مشہور ‘فیڈرلسٹ پیپر’ (Federalist Paper No. 10)، جہاں ان گروہوں سے اداروں کے استحکام اور مفادِ عامہ کی پیش رفت کو لاحق خطرات کا اعتراف کرتا ہے، وہیں انہیں ایک ‘ناگزیر حقیقت’ کے طور پر بھی تسلیم کرتا ہے۔ میڈیسن کے نزدیک یہ گروہ بندیاں فطری طور پر ‘انسانوں کی صلاحیتوں کے تنوع’ کا نتیجہ ہیں، جس سے حقِ ملکیت (rights of property) جنم لیتا ہے۔چنانچہ، طاقت کے ذریعے اس فطری تنوع کو دبانے کی کسی بھی کوشش کا لازمی مطلب حقِ ملکیت (property rights) میں مداخلت ہوگا، جو آخر کار انسانی آزادی کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دے گا—جس کا تحفظ میڈیسن کے نزدیک ‘حکومت کا اولین مقصد’ ہے۔ اس کا حل (دبانے کے بجائے) یہ تھا کہ گروہوں کو آزادانہ طور پر پھلنے پھولنے دیا جائے تاکہ اس امکان کو کم سے کم کیا جا سکے کہ کوئی ایک گروہ اپنے مفادات دوسروں پر مسلط کر پائے۔ یہ تصور واضح طور پر انسانی تکمیل (human perfectibility) کے نظریات اور اکثریت کے ذریعے فرد کی ‘جبری آزادی’ (constrained liberation) کے ان تصورات سے متصادم ہے جو روسو کی سیاسی فکر کا حصہ ہیں، اور جو کلاسیکی امریکی تناظر میں ایک ناممکن امر ہے۔

چنانچہ، جب ایڈمز آزادی کی تعریف ایک ‘عقلی عامل (intellectual agent) کے اندر خود ارادی کی قوت’ کے طور پر کرتا ہے، تو وہ خود ارادی کے اس عمل کو سیاسی اقتدار کے اس ‘نظریہء حدود’ (limitative theory) کے تحت فرد کی اپنی ذات تک محدود رکھتا ہے جس کا وہ حامی ہے۔ اس کے نزدیک یہ عمل (آزادی) فرد کے اپنے ضمیر اور داخلی دنیا کے اندر ایک غورو فکر اور فیصلے کا نام ہے۔ اگرچہ روسو کی جانب سے آزادی کی یہ تعریف کہ یہ ‘اپنے وضع کردہ قانون کی اطاعت’ کا نام ہے، پہلی نظر میں (ایڈمز کے تصور سے) مشابہ معلوم ہو سکتی ہے، لیکن ‘عوامی ارادے’ (general will) کے تصور میں چھپی ہوئی ‘رعایا اور حاکم’ (subject and sovereign) کی فکری یگانگت اس ‘خود قانون سازی’ کے عمل کو انفرادی سطح سے نکال کر ‘اجتماعی وجود’ (communal body) کی سطح پر لے آتی ہے، جو کہ نتیجتاً فرد کی ذات سے بالاتر (transcend) ہو جاتا ہے۔

فرانسیسی انقلابیوں اور انقلاب کے ابتدائی ایام پر روسو کے اس اثر و رسوخ کو بہت سے امریکی مبصرین نے نظر انداز نہیں کیا، جن میں جان ایڈمز سرِ فہرست تھے۔ درحقیقت، روسو کے  Discourse on Inequalityپر ان کی وہ انتہائی تلخ اور پہلے سے مذکورہ تنقید—جو پیرس کے عوام کے ہاتھوں قلعہ باستیل (Bastille) کی فتح سے 34 سال قبل لکھی گئی تھی—کی وضاحت جزوی طور پر اس حقیقت سے کی جا سکتی ہے کہ ایڈمز نے یہ تنقید 1794ء میں لکھی تھی؛ یعنی اس وقت جب وہ دور اپنے عروج پر تھا جسے بعد میں ‘دورِ دہشت'(The Terror) کے نام سے جانا گیا۔جب ایڈمز نے 19 اپریل 1790ء کو ڈاکٹر پرائس کے نام اپنے خط میں وہ مشہور جملہ لکھا کہ: ‘میری سمجھ سے باہر ہے کہ تین کروڑ ملحدوں (atheists) کی جمہوریہ کا کیا بنے گا’، تو وہ روسو کا تذکرہ دیدرو، والٹیئر اور ڈی لیمبرٹ جیسے ‘انسائیکلوپیڈسٹوں اور ماہرینِ معاشیات’ کے ساتھ کر چکے تھے۔ ایڈمز کا اصرار تھا کہ اس ‘عظیم واقعے’ (انقلابِ فرانس) میں ان لوگوں کا کردار سڈنی، لاک یا ہوڈلے سے کہیں زیادہ تھا، بلکہ شاید انھوں نے ‘امریکی انقلاب’ سے بھی زیادہ اس پر اثر ڈالا تھا۔

تاہم، جہاں یہ سچ ہے کہ روسو خود بھی بسا اوقات ‘اکثریت کی حکمرانی’ (majority rule) کو عوامی ارادے کے حصول کے لیے ایک عملی تدبیر کے طور پر تسلیم کرتا ہے—جسے، جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، تصوراتی سطح پر محض اکثریت تک محدود نہیں کیا جا سکتا—وہیں اس کا سیاسی نظریہ، اپنی تمام تر حدود کے باوجود، ابتدائی طور پر ‘آمریت کے تریاق’ (antidote to tyranny) کے طور پر وضع کیا گیا تھا۔ اسے کسی بھی صورت میں ایک ایسی مطلق العنان اور غیر منصفانہ حکومت کے جواز کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے جو ظلم پر مبنی ہو۔آزادی کے بارے میں روسو کا سیاسی نظریہ، امریکہ کے بانیوں کے نظریے کے ساتھ اس نکتے میں مکمل ہم آہنگ ہے کہ ایک فعال سماجی اور سیاسی زندگی کی شرطِ اول کے طور پر ‘اخلاقیات’ قطعی طور پر ناگزیر ہے۔ یہ فکر ریاست کے اس فرض سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ وہ اخلاقی تعلیم کو یقینی بنائے اور اسے آگے بڑھائے، اور ساتھ ہی ‘شہری آزادی’ (civic freedom) کے اس تصور سے بھی ظاہر ہوتی ہے جس میں فرد کی اخلاقی نشوونما کو لازم قرار دیا گیا ہے۔

تاہم، لارڈ ایکٹن (Lord Acton) نے اپنے مضمون ‘قومیت’  (1862ء) میں انقلابِ فرانس کی وضاحت ان الفاظ میں کی کہ وہاں ‘آمریت کے مقابلے میں مراعات سے زیادہ نفرت کی گئی’؛  اس سے وہ غالباً یہ اشارہ دیتے ہیں کہ فرانسیسی انقلابی سابقہ (مراعات) سے چھٹکارا پانے کی خاطر موخر الذکر (آمریت) کو قبول کرنے کے لیے تیار تھے۔ یہ نکتہ روبی سپیئر کے اس بیان سے بمشکل مطابقت رکھتا ہے جس میں اس نے انقلابی حکومت کو آمریت کے خلاف ‘آزادی کی استبدادیت’ (Despotism of Freedom) سے تعبیر کیا تھا۔تاہم، جس طرح آمریت (بطورِ ایک جابر اور غیر منصفانہ حکومت) کا کوئی جواز روسو کے نظریے میں نہیں ملتا، ویسے ہی اس کے امکان کا اعتراف فرانسیسی انقلابیوں کے ذہنوں میں بھی موجود نہ تھا: وہ ‘اخلاقی استبدادیت'(Moral Despotism) کے امکان اور ضرورت پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ چنانچہ استبدادیت کو آمریت کے لیے ایک لازم مگر ناکافی شرط کے طور پر دیکھا جاتا تھا، کیونکہ آمریت کے لیے سیاسی اقتدار کا غیر منصفانہ استعمال ضروری تھا؛ یہ نظریہ اس امریکی لبرل روایت کے برعکس تھا جو بذاتِ خود استبدادیت کو ایک جابرانہ حکومت کے لیے کافی شرط تصور کرتی تھی۔

درحقیقت، امریکی نقطہ نظر سے، استبدادیت (Despotism) لازمی طور پر ان حدود کی پامالی پر دلالت کرتی ہے جو خداداد آزادی نے سیاسی اقتدار پر عائد کر رکھی ہیں، اور اسی بنا پر یہ بذاتِ خود فطرتاً غیر منصفانہ ہے۔ تاہم، اس تصور کی بقا اس مفروضے پر قائم ہے کہ فرد اور اجتماعیت، اور رعایا اور مقتدرِ اعلیٰ کے مابین فرق کو برقرار رکھا جائے؛ جو کہ، جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، روسو کے فکری Paradigm میں موجود نہیں ہے، کیونکہ یہ  Paradigm اخلاقی مقاصد کی خاطر ‘مقید آزادی’ (Constrained Liberation) کے امکان پر انحصار کرتا ہے اور اس کا دفاع کرتا ہے۔

اگرچہ لفظ ‘Liberty’ اور ‘Liberté’ کے مابین پائے جانے والے امتیازی فرق کی وضاحت فرانس اور امریکہ کے درمیان صدیوں پر محیط مشکل تعاون کو سمجھنے میں کافی مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اصل نکتہ یہ ہے کہ ‘Liberty’ ایک ایسا لفظ ہے جس کی تشریحات تو چند ہیں مگر مطالب بے شمار۔ کہا جاتا ہے کہ 1840 کی دہائی میں، ‘کونکورڈ کی جنگ’ (Battle of Concord) کے ایک غازی، لیوی پرسٹن سے ایک نوجوان مؤرخ میلن چیمبرلین نے پوچھا کہ کیا وہ اور ان کے ساتھی آزادی کی جدوجہد میں جیمز ہیرنگٹن اور جان لاک جیسی شخصیات سے متاثر تھے؟ جس پر پرسٹن نے نہایت بے نیازی سے جواب دیا، ’میں نے تو کبھی ان کا نام تک نہیں سنا۔ ہم صرف بائبل، کیٹیکزم (مذہبی سوال و جواب)،  واٹ کے زبور و حمد باری تعالیٰ، اور جنتری (Almanack) پڑھا کرتے تھے۔‘

صاحبِ مضمون ،  جوزف نصر ایچ ای سی   (HEC) اور Sciences Po Paris  میں  کارپوریٹ مینجمنٹ اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے گریجویٹ طالب علم ہیں۔ وہ لبنانی شہری ہیں اور سائنسز پو پیرس اور فری یونیورسٹی برلن (Freie Universität Berlin) سے سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات میں دوہری بیچلرز ڈگری کے حامل ہیں۔

 

اصل مضمون کا لنک: https://www.acton.org/religion-liberty/volume-35-number-4/american-liberty-and-french-liberte-fundamental-disagreement