ڈاکٹر مفتی اسحاق عالم
چند واقعات دینی مدارس کے فضلاء، طلباء اور مذہبی جماعتوں کے کارکنان کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
۱۔ ایک طرف جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہیں جبکہ دوسری طرف حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ غزوہ بدر کا موقع ہے۔ ایک جگہ پڑاؤ ڈالنے کا حکم ہوا جسے دیکھ کر حضرت حباب نے عرض کیا:
"یا رسولَ اللہ! کیا یہ جگہ اللہ کے حکم سے مقرر ہے یا یہ جنگی تدبیر ہے”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"یہ جنگی تدبیر ہے”
اس پر حضرت حباب نے عرض کیا:
"پانی کے کنوؤں کے قریب پڑاؤ ڈالنا زیادہ مناسب ہوگا تاکہ دشمن کو پانی نہ ملے”
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی رائے کو قبول فرمایا اور جگہ تبدیل فرمالی۔
۲۔ یہاں ایک طرف نبی علیہ الصلوۃ و السلام ہیں جبکہ دوسری طرف نوجوان صحابہ کرام ہیں اور موقع غزوہ احد کا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خواہش تھی کہ مدینہ میں رہ کر دفاع کیا جائے جبکہ نوجوان صحابہ چاہتے تھے کہ باہر نکل کر جرات کے ساتھ دشمن کے دانت کھٹے کیے جائیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی رائے قبول فرمالی۔
۳۔ یہاں ایک طرف نبی علیہ الصلوۃ و السلام ہیں جبکہ دوسری طرف حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں اور موقع غزوہ خندق کا ہے۔
حضرت سلمان فارسی نے فارس کے طرز پر خندق کھودنے کا مشورہ دیا جسے آپ نے قبول فرمالیا۔
۴۔ یہاں ایک طرف نبی علیہ الصلوۃ و السلام ہیں جبکہ دوسری طرف چودہ پندرہ سو کی تعداد میں صحابہ کرام ہیں اور موقع صلح حدیبیہ کا ہے۔ صحابہ غم و غصہ کی تکلیف کی وجہ سے فوراً قربانی کرنے اور واپسی پر آمادہ نہیں ہو رہے تھے تو آپ نے اُمّ المؤمنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے مشورہ فرمایا۔
انہوں نے عرض کیا کہ:
"آپ پہل فرمائیں خود قربانی فرمائیں اور سر منڈوائیں، صحابہ خود بخود عمل کریں گے”
آپ نے ان کی رائے قبول فرمائی اور پھر ایسا ہی ہوا۔
۵۔ یہاں ایک طرف نبی علیہ الصلوۃ و السلام ہیں جبکہ دوسری طرف حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا ہے جنہوں نے آزادی کے بعد اپنا حق استعمال کرتے ہوئے حضرت مغیث رضی اللہ عنہ سے ہونے والے نکاح کو ختم کردیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت بریرہ کو اپنی رائے پر نظر ثانی کرنے کے لیے فرمایا، جس پر ان کا کہنا تھا:
"یا رسول اللہ کیا یہ آپ کا حکم ہے؟”
فرمایا:
"حکم نہیں، سفارش ہے”
حضرت بریرہ نے آپ کی سفارش کو قبول نہیں کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سمیت تمام صحابہ نے ان کی رائے کا احترام فرمایا۔
حضرات! ان واقعات پر غور فرمائیں۔
صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی رائے سے اختلاف کر رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم اسے قبول بھی فرما رہے ہیں۔ جس کی رائے درست نہیں لگی اسے رد بھی فرما رہے ہیں۔ وہاں کوئی کسی سے یہ نہیں کہہ رہا کہ ارے میاں عقل کرو، کس کو مشورہ دے رہے ہو؟ اس سے کسی کا ایمان خراب نہیں ہو رہا۔ کوئی کسی کو ملامت نہیں کر رہا۔ کوئی کسی پر طنز نہیں کر رہا۔ کیونکہ یہ لوگ انسانی اقدار کو جانتے تھے۔ حق گوئی، اختلاف اور رائے دینے کے دائرہ کار کو سمجھتے تھے۔
سو کسی کی بات، موقف یا رائے سے اختلاف کرنے یا مشورہ دینے کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ یہ کوئی جرم بھی نہیں ہے۔ یہ جو آپ لوگ بات بات پر سامنے والے کے علم اور عقل کو ناپنے آجاتے ہیں یہ گھٹیا ترین طریقہ ہے۔ اس عمل سے اکابر اور اساتذہ کی محبت کم جبکہ غلامی اور کوڑھ مغز ہونے کی بو زیادہ آتی ہے۔ جن کو ابھی سیکھنا چاہیے تھا وہ آکر ہمیں بڑوں کا ادب سکھا رہے ہیں۔ دانت کمزور ہوں تو گوشت چبانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اپنے دینی اداروں اور اساتذہ کو بدنام کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر مت آیا کریں۔ آئیں تو اپنا دائرہ جان کر آئیں۔
آپ کی جماعتوں کے قائدین ہوں، اساتذہ ہوں، شیخ الاسلام اور شیخ الحدیث صاحبان ہوں، یہ لوگ محمد رسول اللہ سے بڑھ کر نہیں ہیں کہ ان کی رائے سے اختلاف کرنا کفر کی حد تک تصور کیا جائے۔ ان پر تو برملا تنقید بھی کی جاسکتی ہے۔ یہ انسان ہیں، انہیں بُت بنانے سے گریز کریں۔