ڈیجیٹل کلچر، فکری انتشار اور ہماری ذمہ داری
صاحبزادہ محمد امانت رسول

30 جون بروز منگل اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ایک ایسی فکری نشست کے نام رہا، جسے وقت کی اہم ترین ضرورت اور ہمارے سماجی بقا کا سوال کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے ذیلی منصوبے PLEDGE (پاکستان لیجسلیٹو، الیکٹورل اینڈ ڈیجیٹل گورننس ایمپاورمنٹ) کے پروگرام ایڈوائزر جناب محمد قاسم جنجوعہ اور رانا حمزہ اعجاز کی دعوت پر منعقد ہونے والے اس سیمینار کا بنیادی موضوع "پاکستان میں آن لائن نقصانات کے ماحولیاتی نظام کو سمجھنا: علاقائی اسباق اور ڈیجیٹل ماحول میں مذہبی رہنماؤں کا کردار” تھا۔ نشست میں جہاں جناب قاسم جنجوعہ صاحب کی انتظامی و فکری کاوشیں نمایاں تھیں، وہاں ڈاکٹر قبلہ ایاز، موللانا یوسف شاہ، بیرسٹر محمد علی سیف، جناب محمد اسرار مدنی اور فدر اعظم صادق جیسے
موضوع کی حساسیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ آج پاکستان کا سماج، بالخصوص ہماری نوجوان نسل، ایک ایسے ڈیجیٹل سیلاب کے سامنے کھڑی ہے جس کی لہریں جتنی تیز ہیں، اس کے اندر چھپے ہوئے فکری و اخلاقی خطرات اتنے ہی ہولناک ہیں۔ سوشل میڈیا اور آن لائن دنیا نے جہاں معلومات تک رسائی کو آسان بنایا، وہاں ایک ایسا "نقصان دہ ڈیجیٹل ماحول” (Harmful Online Ecosystem) بھی تخلیق کر دیا ہے جس نے ہمارے خاندانی نظام، باہمی رواداری اور فکری استقامت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ منقسم سیاسی بیانیے، فرقہ وارانہ منافرت، اور فیک نیوز (غلط معلومات) کی بھرمار نے نوجوانوں کے ذہنوں کو ایک مستقل ہیجان اور انتشار میں مبتلا کردیا ہے۔
اس مہیب صورتِ حال میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اب تک اس چیلنج کو صرف ایک تکنیکی یا انتظامی مسئلہ سمجھا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید چند قوانین بنا دینے یا انٹرنیٹ کی رفتار کم و بیش کر دینے سے اس طوفان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے علاقائی تناظر (Regional Lessons) پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف اوپر سے مسلط کردہ قوانین یا سنسر شپ کبھی پائیدار نتائج نہیں دے سکتی۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کی حقیقی طاقت یعنی اپنے اخلاقی، سماجی اور مذہبی وجود کو اس مہم میں شامل کریں۔
یہی وہ نکتہ تھا جس پر اس ہیجانی دور میں نوجوانوں کی تربیت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ڈیجیٹل دنیا کی اس بے لگام آزادی کو منظم کرنے کے لیے ہمیں "ایمان پر مبنی ڈیجیٹل انتظام” (Faith-Informed Digital Management) کی طرف آنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے دور کر دیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے استعمال کو اخلاقیات کے تابع کریں۔ ہمارے پاس اسلاف کی وہ روایت موجود ہے جو تحقیق، تفتیش اور سچائی کو ایمان کا حصہ قرار دیتی ہے۔
قرآنِ کریم کا تو واضح اصول ہے کہ جب کوئی خبر پہنچے تو پہلے اس کی تصدیق (تحقیق) کر لیا کرو۔ آج اگر ہم اپنے نوجوانوں کو صرف یہ ایک اصول سکھا دیں کہ سوشل میڈیا پر دیکھی جانے والی ہر چمکتی چیز سچ نہیں ہوتی، اور بغیر تصدیق کے کسی بھی مواد کو آگے بڑھانا (شیئر کرنا) علمی و اخلاقی خیانت ہے، تو ہم آدھے سے زیادہ فکری انتشار پر قابو پا سکتے ہیں۔ غیبت، تضحیک، بہتان تراشی اور فتنہ انگیزی جنہیں ہم حقیقی زندگی میں گناہِ کبیرہ سمجھتے ہیں، سوشل میڈیا کی سکرین پر آ کر وہ "وائرل کنٹینٹ” کا نام پا لیتی ہیں اور ہم نادانستگی میں ان کا حصہ بن جاتے ہیں۔
سیمینار کے دوران اس بات پر اصرار کیا گیا کہ ہمارے سماج میں روایتی اور مذہبی رہنماؤں کا ایک بڑا اثر و رسوخ ہے۔ اگر یہ طبقہ جدید ڈیجیٹل حرکیات (Digital Dynamics) کو سمجھے اور منبر و محراب کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل سکرین پر بھی اخلاقی،تعمیری اور امن پسند بیانیے کو عام کرے،تو یہ نوجوانوں کے لیے ایک بہترین فکری ڈھال بن سکتا ہے۔
آج کے دور میں نوجوانوں کی تربیت کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں "ڈیجیٹل صارف” (Digital Consumer) بنانے کے بجائے "ذمہ دار ڈیجیٹل شہری” (Responsible Digital Citizen) بنایا جائے۔ انہیں سکھایا جائے کہ سکرین پر نظر آنے والا ہر فتنہ ان کے فکری سفر کو روکنے کے لیے ایک جال ہے۔
جناب قاسم جنجوعہ صاحب،حمزہ اعجاز صاحب اور UNDP کا یہ اقدام اس حوالے سے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ انہوں نے قانون سازوں، محققین اور اہلِ علم کو ایک میز پر بٹھا کر اس فکری بحران کا حل تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔ امید ہے کہ اسلام آباد کی اس فکری نشست کی گونج صرف ہوٹل کے ہال تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس سے نکلنے والی تجاویز ہمارے تعلیمی نصاب، تربیتی مراکز اور سماجی رویوں میں بھی جھلکیں گی، کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے ڈیجیٹل وجود کو اپنی تہذیبی اور اخلاقی اقدار کے تابع کریں۔۔۔۔۔