پشتون تحفظ مومنٹ: کامیابیاں، خدشات اور آئینی جدجہد کا سوال

ڈاکٹر رفیع اللہ کاکڑ

0
ڈاکٹر رفیع اللہ کاکڑ

 

حالیہ ایک پوڈکاسٹ میں حفیظ اللہ شیرانی نے مجھ سے پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کے حوالے سے کئی سوالات کیے، جن میں خاص طور پر PTM کے بعض نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے تشدد پسند رجحان، PTM اور پشتون قوم پرست جماعتوں کے درمیان کشیدہ تعلقات، اور منظور پشتین کی طویل عرصے سے عوامی منظرنامے سے غیر موجودگی شامل تھی۔
میرے جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ PTM ایک عدم تشدد، جنگ مخالف تحریک کے طور پر ابھری، اور ابتدائی برسوں میں اس نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کامیابیوں میں بڑی تعداد میں ایسے پشتون طبقات کو سیاسی شعور دینا جو پہلے سیاست سے لاتعلق تھے، باہم منقسم پشتونوں کو ایک سادہ مگر واضح جنگ مخالف ایجنڈے پر متحد کرنا، دہشت گردی کے خلاف جنگ، فوجی آپریشنز اور ٹی ٹی پی کے نتیجے میں ہونے والی انسانی تباہی کو قومی سطح پر اجاگر کرنا، اور پاکستان کی طالبان سے متعلق دوہری پالیسی (اچھے اور برے طالبان) کے تباہ کن اثرات کو بے نقاب کرنا شامل تھا۔
ان کامیابیوں کے باوجود، گزشتہ دو سے تین برسوں میں PTM کی رفتار کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ میرے تجزیے کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں PTM کے اندرونی اختلافات، تنظیمی ڈھانچے سے متعلق بنیادی سوالات پر تاخیر، اور قیادت کی سطح پر اسٹریٹجک ابہام شامل ہیں۔ اسی پس منظر میں جب حفیظ اللہ شیرانی نے یہ سوال کیا کہ PTM کے کچھ نوجوان تشدد کی بات کیوں کرنے لگے ہیں، تو میں نے اس کی ایک وجہ پشتون اور افغان ڈائسپورا کے بعض حلقوں کا غیر متناسب اور بڑھتا ہوا اثر قرار دیا۔ میرے مشاہدے کے مطابق ڈائسپورا کے کچھ حصے زمینی حقائق سے کٹے ہوئے انتہائی radical ایجنڈے مقامی کارکنوں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ وہ خود ریاستی جبر کی قیمت ادا نہیں کرتے۔ میں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ منظور پشتین کی طویل عوامی غیر موجودگی تحریک کو نقصان پہنچا رہی ہے، اور یہ کہ PTM کی اسٹریٹجک ابہام پشتون اتحاد کے لیے رکاوٹ بن رہا ہے۔
اگرچہ بعض سیاسی جماعتوں اور آزاد تجزیہ کاروں نے ان خدشات کی تائید کی ہے، لیکن PTM کے بعض حامیوں کی جانب سے ردِعمل انتہائی جارحانہ رہا ہے۔ حیات پریغال کے علاوہ شاذ و نادر ہی کوئی سنجیدہ یا تعمیری جواب سامنے آیا۔ بیشتر ردِعمل میں یا تو سوالات کو یکسر مسترد کر دیا گیا یا پھر ذاتی اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔
PTM پاکستان کے پسماندہ خطوں میں ابھرنے والی سب سے بڑی اور جامع سیاسی تحریکوں میں سے ایک ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے مشکل حالات میں PTM کا ساتھ دیا اور اس کے حق میں عوامی رائے ہموار کی۔ میں ابتدا ہی سے ان بحثوں میں شامل رہا ہوں اور اس کے ابھار اور کردار پر تفصیل سے لکھتا رہا ہوں۔ جس طرح کی حمایت کرنا ہمارا جمہوری حق تھا، اسی طرح تحریک پر تعمیری تنقید کرنا بھی ہمارا جمہوری حق ہے۔ یہ تحریک کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔ جب ہم ساتھ سال اس کے حق میں لکھتے رہے تو ٹھیک تھا آج معمولی سے سوالات پر یہ ذاتی حملوں پر اتر آئے ہیں اور وہ بھی جھوٹے۔ جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ تحریک میں نظریہ سے زیادہ ایک کلٹ کا اثر بڑھ رہا ہے۔
حامیوں اور ناقدین دونوں کو اس temptation سے بچنا چاہیے کہ اصولی اختلاف کو ذاتی جھگڑوں میں بدل دیا جائے۔ یہ کوئی ذاتی معاملہ نہیں ہے۔ میرے جاننے والے کئی نہایت مخلص، دیانتدار اور سنجیدہ سیاسی کارکن آج بھی PTM کا حصہ ہیں، اور میں یہ بات خاص طور پر انہی اور دیگر سنجیدہ ہمدردوں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہوں، تاکہ ایک کھلا اور ایماندار مکالمہ شروع ہو سکے۔ کئی دوستوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں ایک عوامی مقبول (populist) مؤقف اختیار کروں اور PTM کی قیادت پر تنقید سے گریز کروں۔ ایسا کرنا آسان تھا اور شاید سیاسی فائدہ بھی دیتا، لیکن میں نے دانستہ ایسا نہیں کیا، کیونکہ میرا یقین ہے کہ ہمارے نوجوان اور کارکن متبادل نقطۂ نظر سننے کے حق دار ہیں۔ بہت سے PTM ہمدرد نجی طور پر انہی خدشات کا اظہار کرتے ہیں مگر ردِعمل کے خوف سے خاموش رہتے ہیں۔ ناقدین کو خاموش کرنا تحریکوں کو کمزور کرتا ہے؛ کھلی بحث انہیں مضبوط بناتی ہے۔
۔ تشدد کے سوال پر
کئی صحافیوں اور آزاد مبصرین نے PTM کے بعض نوجوانوں میں ریاست کے خلاف تشدد کی طرف جھکاؤ پر تشویش ظاہر کی ہے۔ مجھ جیسے بہت سے حامیوں کا مؤقف ہے کہ PTM نے ایک آئینی، عدم تشدد پر مبنی مزاحمتی تحریک کے طور پر آغاز کیا تھا اور اسے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ہی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔ حیات پریغال نے اس مؤقف کو سنجیدگی سے چیلنج کیا ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ پاکستان ایک آمرانہ ریاست بن چکا ہے جہاں آئین اور پارلیمان محض ربڑ اسٹیمپ رہ گئے ہیں۔ جب ریاست خود آئین کی پاسداری نہیں کرتی تو، ان کے مطابق، قوم پرست تحریکوں کو آئینی جدوجہد تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آئینی جدوجہد پر زور دینے والے تین وجوہات کی بنا پر ایسا کرتے ہیں: ریاستی جبر سے بچاؤ کے لیے آئین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا، تدریجی سیاسی تبدیلی پر یقین، یا یہ خیال کہ عوام کھلی مزاحمت کے لیے تیار نہیں۔
میں تسلیم کرتا ہوں کہ حیات نے کئی مضبوط اور سنجیدہ نکات اٹھائے ہیں۔ میں اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ پاکستان کا موجودہ وفاقی نظام چھوٹی قومیتوں، خصوصاً بلوچوں اور پشتونوں، کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہا ہے، اور ایک نئے سماجی معاہدے اور غیر اکثریتی، حقیقی وفاقی نظام کی اشد ضرورت ہے جس میں مرکز اور اسٹیبلشمنٹ کی ناجائز مداخلت کے خلاف مضبوط حفاظتی ضمانتیں ہوں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ مایوس کن صورتحال خود بخود مسلح جدوجہد کو واحد یا مؤثر متبادل بنا دیتی ہے؟ میرے نزدیک اس کا جواب اب بھی نفی میں ہے۔
مسلح جدوجہد کی مقبولیت کا انحصار چند افراد کی خواہشات پر نہیں بلکہ معروضی حالات اور عوامی شعور پر ہوتا ہے۔ پشتون کوئی یکساں سیاسی اکائی نہیں ہیں۔ پشاور ویلی، سابقہ فاٹا اور بلوچستان کے پشتون علاقوں کے حالات ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں، اور پاکستان کے سیاسی و معاشی نظام میں ان کے انضمام کی سطح بھی مختلف ہے۔ میری سمجھ کے مطابق پشتون مجموعی طور پر مسلح جدوجہد کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ آج پشتون ایک ہی وقت میں مظلوم بھی ہیں اور ریاستی طاقت کے ڈھانچوں کا حصہ بھی۔ آج پشتونوں کی سب سے مقبول جماعت پی ٹی آئی ہے۔ اور اس کا ایجنڈا پاکستان کو مظبوط کر نا ہے۔ ان معروضی حالات میں غیر آئینی یا مسلح جدوجھد کی باتیں زمینی حقائق سے آنکھیں چھپانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

بلوچ جدوجہد سے موازنہ بھی درست نہیں۔ بلوچ پاکستان میں سب سے کم مربوط قومیت ہیں، جن کا ریاستی سیاست اور معیشت میں حصہ نہایت محدود ہے۔ اس کے برعکس پشاور ویلی کے پشتونوں کی فوج اور بیوروکریسی میں نمایاں نمائندگی ہے، جبکہ سابقہ فاٹا اور بلوچستان کے پشتون غیر رسمی معیشت اور تجارت سے وابستہ ہیں۔ ان حالات میں مسلح جدوجہد نہ تو وسیع حمایت حاصل کر سکتی ہے اور نہ ہی اس کے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں؛ بلکہ اس کا نتیجہ پشتونوں کے آپس میں لڑنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ آئینی جدوجہد ترک کرنا ریاستی جبر اور نوجوان پشتونوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کو جواز فراہم کرے گا۔ میں کسی ایسے راستے کی حمایت نہیں کر سکتا جو واضح طور پر بے مقصد خونریزی کی طرف لے جائے۔ اور پشتون نوجوانوں کو ایک بے مقصد جنگ میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے۔
تیسری بات یہ کہ PTM کو بحیثیت تحریک یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا راستہ خود طے کرے۔ اگر PTM اجتماعی اور شفاف طریقے سے غیر آئینی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو میں اس فیصلے کا احترام تو کروں گا، مگر اس کی مخالفت بھی کروں گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ فی الحال کوئی واضح فیصلہ سامنے نہیں آیا، مگر اس کے باوجود کچھ لوگ نوجوانوں میں خفیہ طور پر انتہائی خیالات اور مسلح جدوجھد جیسے خیالات پھیلا رہے ہیں۔ نوجوان کارکنوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
انہی وجوہات کی بنا پر مجھے یورپ اور دیگر ممالک میں ہونے والی PTM جرگہ سرگرمیوں پر شدید تحفظات ہیں، جو زمینی کارکنوں پر غیر حقیقی ایجنڈے مسلط کر رہی ہیں اور ان کی جانیں خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ ڈائسپورا اکثر مقامی حالات اور مجبوریوں کو نہیں سمجھتا اور جبر کی قیمت بھی ادا نہیں کرتا۔ آخر میں، میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ منظور پشتین کا عوامی منظرنامے سے غائب رہنا ایک غلط حکمتِ عملی ہے۔ محض سوشل میڈیا تک محدود رہنا تحریک کو کمزور کرتا ہے اور اس حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی ضروری ہے۔

میں خود کو ان معاملات میں آخری اتھارٹی نہیں سمجھتا اور دوسروں سے سیکھنے اور مختلف نقطۂ نظر سننے کے لیے تیار ہوں۔ تاہم میں ٹرولنگ اور ذاتی حملوں کا جواب نہیں دوں گا۔اور پی ٹی ایم سے گزارش ہے کہ انوارالحق کاکڑ کے ایڈوائزر جیسے سفید جھوٹ بولنے کی بجائے سوالات پر بحث کریں۔ سنجیدہ مکالمے کے خواہاں افراد خوش آمدید ہیں، باقی آگے بڑھ جائیں۔

اگر PTM کو ایک بالغ اور دیرپا سیاسی تحریک بننا ہے تو اسے اندرونی تنقید برداشت کرنا سیکھنا ہوگا۔ وہ تحریکیں جو اپنے خیر خواہوں کو خاموش کر دیتی ہیں، طویل عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتیں۔
آج کے لئے اتنا کافی ہے۔ کچھ باتیں کسی اور دن۔