کیا جنازے حق کا فیصلہ کرتے ہیں؟

0

صاحبزادہ محمد امانت رسول

تاریخ کا ایک عجیب المیہ ہے کہ لوگ اکثر حق کو ترازو میں نہیں،ہجوم میں تلاش کرنے لگتے ہیں۔ دلیل میں نہیں،تعداد میں ڈھونڈتے ہیں اور کردار میں نہیں، نعروں اور مجمعوں میں پرکھتے ہیں۔
ہمارے مذہبی ماحول میں ایک عجیب رویہ جڑ پکڑ چکا ہے۔ جہاں کسی عالم، پیر، مرشد یا مذہبی رہنما کا بڑا جنازہ اٹھتا ہے، وہیں امام احمد بن حنبلؒ کا یہ جملہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگتا ہے:
"بيننا وبينكم الجنائز”
"ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ جنازے کریں گے۔”
پھر بڑے وثوق سے اعلان ہوتا ہے کہ چونکہ فلاں شخصیت کے جنازے میں لاکھوں کا ہجوم اُمڈ آیا، اس لیے ہمارا مسلک، ہماری جماعت اور ہمارے اکابر ہی حق پر ہیں۔
مگر ٹھہریے! سوال یہ ہے کہ کیا حق و باطل کا فیصلہ واقعی جنازوں کے ہجوم سے ہوتا ہے؟ اگر ایسا ہے، تو پھر تاریخِ اسلام کے کئی روشن تری
امام احمدؒ کا اصل مدعا کیا تھا؟
سب سے پہلے تو اس جملے کا اصل سیاق سمجھنا ضروری ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ نے یہ بات فتنۂ خلقِ قرآن کے دور میں فرمائی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عباسی خلفاء مامون، معتصم اور واثق کے دربار نے یہ عقیدہ زبردستی مسلمانوں پر مسلط کرنےکی کوشش کی کہ قرآن مخلوق ہے۔ اقتدار، عدالتیں اور درباری علماء سب مخالف صف میں تھے۔ امام احمدؒ تنہا کھڑے رہے، قید و بند اور کوڑوں کی اذیت جھیلی، مگر باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔
اصل روایت جو دارقطنی نے ان کے صاحبزادے عبداللہ کے واسطے سے نقل کی ہے، اس میں الفاظ یوں ہیں: "قولوا لأهل البدع بيننا وبينكم الجنائز”یعنی "اہلِ بدعت سے کہہ دو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ جنازوں پر ہو گا۔” ان کا مدعا یہ تھا کہ وقتی اقتدار اور سرکاری طاقت حق کی دلیل نہیں ہوتی۔ وقت گزرنے کے بعد اللہ اپنے مخلص بندوں کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔
اور واقعتاً ایسا ہی ہوا۔ جب 241ھ میں ان کا انتقال ہوا تو مؤرخین نے ان کے جنازے کو جاہلیت و اسلام کی سب سے بڑی نمازِ جنازہ قرار دیا؛ عبد الوہاب الوراق کا مشہور قول ہے کہ نہ جاہلیت میں، نہ اسلام میں اتنا بڑا اجتماع کسی جنازے پر جمع ہوا۔ اس کے برعکس ان کے مخالف قاضی احمد بن ابی دؤاد کی وفات پر کوئی پُرسانِ حال نہ تھا۔
مگر یہاں ایک باریک نکتہ ہے جسے نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
امام احمدؒ نے یہ ہرگز نہیں فرمایا کہ:
"جس کا جنازہ بڑا ہو، وہی حق پر ہے۔”
انہوں نے تو اہلِ بدعت کی ایک مخصوص صورتحال میں،سرکاری جبر کے مقابل،حق کی مظلومیت اور اس کی حتمی سرخروئی کی طرف اشارہ کیا تھا۔ یہ ایک تاریخی مشاہدہ تھا،ایک آفاقی شرعی کلیہ نہیں۔ کیونکہ اگر اسے کلیہ مان لیا جائے، تو تاریخ کے بہت سے حق پرست اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ آئیے چند مثالیں دیکھتے ہیں
امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالبؓ کو شہید کیا گیا تو سیاسی حالات اس قدر کشیدہ تھے کہ ان کی تدفین رات کے اندھیرے میں، خفیہ طور پر کی گئی، اور بعد میں قبر کا نشان تک مخفی رکھا گیا تاکہ بے حرمتی کا اندیشہ نہ رہے۔ محدود افراد ہی تدفین میں شریک ہوئے۔ کیا کوئی مسلمان یہ کہنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ ہجوم کم ہونے سے ان کی حقانیت میں کمی آ گئی۔۔؟
سیدۃ النساء اہل الجنۃ حضرت فاطمہؓ نے اپنی وصیت کے مطابق رات کے وقت دفن ہونا پسند فرمایا، اور ان کے جنازے میں نہایت محدود افراد شریک ہوئے۔ کیا دنیا کی کوئی ہستی ان کے مقام و فضیلت پر انگلی اٹھا سکتی ہے؟
خانوادہ رسول کی جلیل القدر شخصیت امام موسیٰ کاظمؒ نے عباسی دور کے سیاسی جبر کا سامنا کیا اور قید و بند کی صعوبتیں جھیلتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے۔ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کبھی کبھی اہلِ حق پر ایسا ظلم ہوتا ہے کہ ان کے گرد عوامی ہجوم جمع ہونے ہی نہیں دیا جاتا۔
اپنے زمانے کے عظیم تابعی، مفسر اور فقیہ سعید بن جبیرؒ کو گورنر حجاج بن یوسف نے بے دردی سے شہید کیا۔ ان کی شہادت کے وقت نہ کوئی عظیم الشان جلوس تھا، نہ لاکھوں کا اجتماع۔ مگر آج ان کا علم و تقویٰ زندہ ہے، جبکہ ان کا قاتل تاریخ میں ظلم کی علامت کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
امیر المومنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کا انجام تو اور بھی فکر انگیز ہے۔ اپنے آخری ایام میں وہ حاسدوں اور اربابِ اقتدار کی مخالفت کا نشانہ بنے، یہاں تک کہ انہیں نیشاپور اور پھر اپنے آبائی شہر بخارا کو خیرباد کہنا پڑا۔ سمرقند کے قریب ایک چھوٹی سی بستی خرتنگ میں،غربت اور کسمپرسی کے عالم میں انہوں نے یہ دردمندانہ دعا کی اللهم قد ضاقت عليَّ الأرض بما رحبت فاقبضني — "اے اللہ!
کتنے ہی صالحین گمنامی میں رخصت ہوئے۔۔
یہ تو چند نمایاں مثالیں ہیں۔ تاریخ ایسے بے شمار محدثین،فقہا، مصلحین اور زاہدوں سے بھری پڑی ہے جنہیں حکومتوں نے دبایا، جیلوں میں ڈالا، جلاوطن کیا، یا ایسے حالات پیدا کر دیے کہ ان کے جنازوں میں چند افراد ہی شریک ہو سکے۔
کیا ان کے حاضرین کی قلت ان کی حقانیت کی قلت کی دلیل ہے؟ ہرگز نہیں۔
پھر بڑے جنازے کیا ثابت کرتے ہیں؟
غلط فہمی نہ ہو۔۔۔ بڑا جنازہ بجائے خود کوئی معیوب چیز نہیں۔ یہ ثابت کر سکتا ہے کہ مرحوم ایک مقبول شخصیت تھے، لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت تھی، انہوں نے قابلِ قدر سماجی یا دینی خدمات انجام دیں، اور لوگ ان سے جذباتی طور پر وابستہ تھے۔
یہ سب اچھی باتیں ہیں،مگر ان میں سے کوئی چیز حق و باطل کے آخری فیصلے کا معیار نہیں بنتی۔ ورنہ دنیا کے بہت سے بادشاہوں، انقلابیوں اور مقبولِ عام سیاست دانوں کے پُرہجوم جنازوں کو بھی حق کی سند ماننا پڑے گا،حالانکہ مقبولیت اور حقانیت دو الگ چیزیں ہیں۔
قرآنِ کریم نے تو اکثریت کو کسوٹی ماننے سے صراحتاً روکا ہے
﴿وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ﴾ (الأنعام: 116)
"اگر تم زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کے پیچھے چلو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ محض عددی اکثریت کبھی حق کی علامت نہیں ہوتی۔
اصل فیصلہ کس چیز سے ہو گا؟
پس حق کا فیصلہ ہوتا ہے قرآن و سنت کے ترازو سے، علم سے، کردار سے،اخلاص سے اور استقامت سے، نہ کہ جنازوں کے ہجوم سے، نہ پیروکاروں کی گنتی سے، اور نہ سوشل میڈیا کے رجحانات سے۔
امام احمد بن حنبلؒ کا جملہ ایک مخصوص سیاق میں کہا گیا تاریخی مشاہدہ تھا، کوئی شرعی کلیہ نہیں۔اگر ہم اسے ایک آفاقی اصول بنا کر ہر جنازے پر چسپاں کر دیں، تو ہمیں ان تمام عظیم ہستیوں کی حقانیت پر بھی سوال کھڑا ہوجائے گا جنہیں ظلم و جبر کے باعث رات کے اندھیرے میں دفن کیا گیا، یا جن کے جنازوں میں گنے چنے لوگ ہی شریک ہو سکے۔
اس لیے کسی بڑے جنازے کو دیکھ کر احترام کیجیے، دعا کیجیے، مگر حق و باطل کا فیصلہ کرنے کے لیے قرآن و سنت کا ترازو کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیے۔۔

(روزنامہ پاکستان)