پاکستان کا ثالثی ماڈل منفرد اور حیران کن ہے

0

گزشتہ  ایک دہائی ڈیڑھ  کے دوران  پاکستان  مسلسل سفارتی تنہائی کا شکار رہا ہے، اور دنیا کے بڑے پلیٹ فارمز  پر اس کی آواز  بہت ہی کم سنائی دی۔ داخلی سیاسی عدم  استحکام، معاشی مشکلات، اور سیکیورٹی کے پیچیدہ مسائل کی وجہ سے ملک کی توجہ زیادہ تر داخلی امور پر مرکوز رہی، اور  عالمی سطح پر اس کی موجودگی محدود  رہی۔  دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط افغانستان کا مسئلہ، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور مشرق وسطیٰ  کی بدلتی ترجیحات  نے پاکستان کو کسی اہم  عالمی ایجنڈے  کاحصہ بننے کا موقع نہیں دیا۔  اس کے علاوہ،   2014 میں مودی حکومت آنے کے بعد بھارت نے  بھی پاکستان کو بین الاقوامی فورمز پر تنہا اور کمزور کرنے  کی بھرپور  کوشش کی، اسے دہشت گردی کے الزامات میں الجھایا اور  حتی کہ مسلم دنیا میں بھی رفتہ رفتہ پاکستان کی روایتی جگہ پر بھارت قابض ہونا شروع ہوگیا۔

پانچ چھ سال قبل پاکستان نے  سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش  تو  اکثر حلقوں نے اسے  طنز کا نشانہ بنایا، مگر آج پاکستان نے نہ صرف امریکا  کے غیر مستقل مزاج صدر کو انگیج  کیا، ایران کے غصے اور ردعمل کو کافی حد تک  حدود میں رکھا،  بلکہ عالمی معاشی اور سفارتی بحران  پر بھی   بروقت قابو پایا۔ اگرچہ پاکستان کے ساتھ چند دوست ممالک بھی اس عمل  میں شامل ہیں، لیکن اس کا حقیقی  سہرا اور اصل کریڈٹ پاکستانی مقتدرہ کو جاتا ہے۔

یہ جنگ جس حساس خطے میں ہو رہی ہے، اور اس میں جو ممالک متاثر ہیں یا فریق ہیں، اگر اس سارے منظرنامے کو دیکھا جائے معلوم ہوتا ہے کہ  ایک چھوٹی سی غلط کیلکولیشن  بھی عالمی سطح پر بڑے  انسانی اور اقتصادی بحران پیدا کر سکتی ہے۔ ایسے حساس وقت میں، کہ جب دنیا کے طاقتور ملک ششدر یا دباؤ کا شکار تھے،  پاکستان نے اپنی روایتی  کمزور  پوزیشن سے  بہت آگے قدم بڑھا کر ایک فعال ثالث کی حیثیت اختیار کی ہے۔

پاکستان کا ثالثی ماڈل منفرد اور  حیران کن ہے

قطر، ناروے، اور عمان جنہوں نے عالمی تنازعات میں ثالثی کے ذریعے اپنی ساکھ بنائی، یہ  خوشحال، مالی طور پر مضبوط اور سیاسی طور پر مستحکم ممالک ہیں۔ لیکن پاکستان  تو کثیرالجہتی  چیلنجز کا شکار ایک ریاست  ہے۔ مہنگائی، قرضوں کا بوجھ، اور اندرونی سیاسی کشمکش روزمرہ کی حقیقت ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے جو  کچھ کر کے دکھایا،  یہ حیران کن ہے۔یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک عالمی سیاسی کارنامہ ہے جو پاکستان کی بصیرت، صبر اور حکمت کی عکاسی کرتا ہے۔

عالمی دباؤ اور  خطے کے حالات کے شدید پریشر کے باوجود پاکستان نے خود بھی  ایرانی جنگ میں براہِ راست مداخلت سے گریز کیا، سعودی عرب اور دیگر  خلیجی ممالک کو انگیج رکھا،  صدر ٹرمپ سےبات چیت جاری رکھی، اور ایک متوازن موقف کے لیے سپیس پیدا کیے رکھی۔  اب گزشتہ چند گھنٹوں سے لبنان میں جنگ بندی، آبنائے  ہرمز کی جزوی  بحالی، اور عالمی منڈیوں میں خوشی کی لہر، یہ سب پاکستان کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار  کی انتھک کوششوں کے ساتھ،  جنرل عاصم منیر کے  ذاتی کردار ،  معاملات  کی تفہیم اوردوٹوک سوچ نے اس کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت  کر دیا  ہےکہ محدود وسائل، داخلی مشکلات اور معاشی دباؤ کے باوجود، عالمی ثالثی اور امن کی کوشش ممکن ہے۔

پاکستان کا یہ کردار جنگ کے ابتدائی  کئی دنوں تک غیر متوقع اور نہ سمجھ میں آنے والا تھا، اور دنیا کو  ایسے  لگ رہا تھا کہ یہ کوششیں درمیان میں ہی ناکامی کا شکار ہوں گی، یا پاکستان خود ایک پوائنٹ پر پیچھے ہٹ جائے گا، کیونکہ وہ اس تنازعے کی تپش کو عین مرکز میں کھڑے ہو کر برداشت نہیں کر پائے گا،   مگر اب جب جنگ کے فریق ایک معاہدے کے قریب ہیں اور وہ پاکستان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں، تو  عالمی دنیا اسے سنجیدہ، فعال اور مہارت رکھنے والا ثالث تسلیم کر رہی ہے۔

پاکستانی فوج اور سیاسی قیادت نے نہ صرف روایتی سفارتی چینلز بلکہ غیر رسمی، خفیہ رابطوں کو بھی فعال طور پر استعمال کیا، جس سے فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا گیا۔ اس جنگ میں بہ طور ثالثی اعتماد حاصل کرنا سب سے مشکل کام تھا جو کوئی دوسرا ملک نہیں کر پا رہا تھا، حتی کہ عمان بھی پیچھے ہوگیا۔ لیکن پاکستان نے جنگ کے فریقوں اور خطے کی طاقتوں میں اپنے لیے  یہ اعتماد بنایا کہ  وہ ایک غیرجانبدار ملک  ہے، اور  اس کا مقصد کسی فریق کو فائدہ پہنچانا نہیں ہے، بلکہ بحران کے پھیلاؤ کو روکنا  مطلوب ہے۔  پاکستان نے ہر ملاقات اور ہر  گفتگو میں امریکا و ایران کے درمیان بھی اعتماد سازی پر زور دیا۔ ایرانی اور امریکی حکام کو یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان بحران کی شدت کو سمجھتا ہے اور ہر ممکن اقدام کرے گا تاکہ مزید نقصان  نہ ہو۔ یہ اعتماد سازی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوئی۔

پاکستان نے عالمی میڈیا اور تجزیہ کاروں کے ساتھ بھی  مسلسل مگر محتاط  رابطے قائم رکھے تاکہ ثالثی کے اقدامات کی مثبت تصویر سامنے آئے۔ یہ قدم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم تھا کہ ثالثی کی کوششیں کسی فریق کے حق میں محسوس نہ ہوں اور عالمی رائے پاکستان کی مثبت کردار کو شفاف اور عیاں طور پہ دیکھ لے۔

اسی طرح، پاکستان نے بحران کے ہر لمحے اور ہر موڑ پر  بروقت اقدامات کیے، چاہے وہ ملاقاتیں ہوں یا بیک چینل رابطے ہوں۔ بروقت حکمت عملی نے ممکنہ تصادم کو کم کیا اور مذاکرات کے لیے جگہ فضا کو ہموار کیے رکھا۔

پاکستان کی ثالثی صرف سیاسی یا سیکیورٹی کے پہلو تک محدود نہیں رہی۔ اس نے انسانی جانوں اور اقتصادی نقصان کے تحفظ کو بھی ترجیح دی ہے۔ عالمی منڈیوں  پر  اس جنگ  کے اثرات بہت وسیع ہیں، اور پاکستان نے یہ یقینی بنایا کہ ثالثی کے اقدامات نہ صرف عسکری  تصادم کو کم کریں بلکہ دنیا  کی اقتصادی صورتحال کو بھی مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوں۔

یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کی ثالثی کی کامیابی  ایک تاریخی لمحہ ہے، جس نے  ملک کی سفارتی شناخت کو  بدل کر رکھ دیا ہے، اورہر پاکستانی ، چاہے وہ کسی بھی جماعت اور نظریے  سے تعلق رکھتا ہو، اسے اس پر فخرکرنا چاہیے، اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے۔